کاروار،3؍نومبر (ایس او نیوز) امسال 3 ؍ستمبر کو ڈسٹرکٹ ہاسپٹل میں زچگی کے بعد نس بندی آپریشن کے دوران گیتا نامی خاتون کی جو موت واقع ہوگئی تھی اور اس کے بعد گیتا کے گھر والوں نے ڈاکٹر پر بے پروائی برتنے کاالزام لگایا تھااس معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار کو اپنی رپورٹ سونپ دی ہے۔ توقع ہے کہ موت کے اسباب پر سے جلد ہی پردہ اٹھ جائے گا اور حقائق سامنے آجائیں گے۔
خیال رہے کہ گیتا کی موت کے بعد ڈسٹرکٹ اسپتال کے سرجن ڈاکٹر شیوانند کوڈترکرپر کوتاہی اور بے پروائی کا الزام لگاتے ہوئے گھروالوں کے ساتھ عوامی بھیڑ نے بھی سخت احتجاج کیا تھا ۔ گیتا کی موت بہت دنوں تک لوگوں کے اندر بحث ومباحثہ کاموضوع بنی رہی۔ لوگوں میں یہ بات بھی عام ہوگئی تھی کہ بیہوش کرنے والے ڈاکٹر سے چوک ہوئی ہے اوراس نے بے ہوشی کی دوا کچھ زیادہ مقدار میں دے دی تھی۔
جب یہ معاملہ وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا کے علم میں لایا گیا تو انہوں نے اس کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس لیے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے ضلع پنچایت سی ای او محمد روشن کی قیادت میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔اس دوران محکمہ صحت کی طرف سے ڈاکٹر شیوانند کا تبادلہ بھی کردیا گیا تھا۔ ڈاکٹر شیوانند کوڈترکر نے تحقیقات سے پہلے ہی اپنا تبادلہ کیے جانے پر کرناٹکا اپیلنٹ ٹریبونل (کے اے ٹی) میں اپیل دائر کی ہے۔اور وہاں یہ معاملہ زیرتفتیش ہے۔
تفتیشی ٹیم نے ڈاکٹر شیوانند کے علاوہ دوسرے ماہرین، ڈاکٹروں اور اسپتال کے عملے کے ساتھ ساتھ گیتاکے گھروالوں سے بھی بات چیت کی اور ضروری بیانات درج کرلیے۔ اور تحقیقات مکمل کرنے کے بعد گزشتہ مہینے ہی اپنی رپورٹ ڈی سی کو سونپ دی ہے۔
ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے بتایا کہ ابھی میں نے اس رپورٹ کا مطالعہ نہیں کیا ہے۔ دو چار دنوں کے اندر رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس تعلق سے ضروری کارروائی کی جائے گی۔